قومی اقلیتی کمیشن مذہب کی جبری تبدیلی کے واقعات کی روک تھام کر پائے گا؟

By | June 7, 2020

 

پاکستان
،تصویر کا کیپشن

پاکستان میں جبری طور پر اقلیتی برادری کی لڑکیوں کے مذہب تبدیل کرنے واقعات سامنے آتے رہتے

عمر کوٹ سے تعلق رکھنے والی شریمتی میگھواڑ 18 ماہ قبل لاپتہ ہوئیں اور بازیابی کے بعد حال ہی میں انھوں نے عدالت میں دیے گئے بیان میں انھوں نے اغوا کے بعد جبری طور پر اپنا مذہب تبدیل کروائے جانے اور جسم فروشی پر مجبور کیے جانے کے الزامات عائد کیے۔

عدالت نے اس حلفیہ بیان کے بعد شریمتی میگھواڑ کو ان کے والدین کے حوالے کر دیا۔

سندھ کے ضلع ڈھرکی کی درگاہ بھرچونڈی کے گدی نشین کے بھائی میاں مٹھو کے علاوہ عمرکوٹ کے پیر ایوب سرہندی ایسے دوسرے گدی نشین ہیں جن پر ہندو لڑکیوں کے مذہب تبدیل کروانے کا الزام لگتا رہا ہے تاہم دونوں کا موقف رہا ہے کہ وہ مذہبی کی تبدیلی اور نکاح لڑکیوں کی مرضی سے کرتے ہیں۔

شریمتی کا معاملہ پاکستان میں پہلا واقعہ نہیں جب اغوا کی جانے والی لڑکی یا اس کے اہلخانہ کی جانب سے مذہب کی جبری تبدیلی کے الزامات لگائے گئے ہوں۔

سندھ میں ہندو، پنجاب میں مسیحی اور خیبرپختونخوا کی کیلاش کمیونٹی، جبری مذہب کی تبدیلی کی شکایات کئی سالوں سے کرتی آ رہی ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن سمیت انسانی حقوق کی دیگر تنظیمیں ان شکایات کو جائز قرار دیتی ہیں۔

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے پانچ مئی، 2020 کو وزیرِ اعظم کی صدارت میں قومی اقلیتی کمیشن قائم کیا تھا۔ اس طرح کا ادارہ قائم کرنے کا حکم 2014 میں سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں دیا تھا۔ گو کہ یہ کمیشن سپریم کورٹ کے فیصلے کے چھ سال بعد قائم ہوا لیکن شروع ہی سے ایسی آوازیں آنے لگیں کہ حالیہ شکل میں یہ مذہبی اقلیتیں کو انصاف پہنچانے کے لیے ناکافی ہے۔

اقلیتی کمیشن بنانے کا بنیادی مقصد اقلیتوں کو مذہبی آزادی فراہم کرنا اور ایسے اقدامات کرنا ہے جس سے وہ قومی دھارے کا مکمل طور پر حصہ بن سکیں اور اس میں ان کی مکمل شمولیت ہو۔ لیکن حال ہی ہونے والے چند واقعات دیکھ کر لگتا ہے کہ لوگوں کے اس بارے میں تحفظات بے جا نہیں تھے۔

اس کمیشن میں ہندو کمیونٹی کے علاوہ مسیحی، پارسی، سکھ اور کیلاش کمیونٹی کو بھی نمائندگی دی گئی ہے جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین سمیت دو مسلم اراکین بھی اس کا حصہ ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن کی مذہب یا عقیدے کی آزادی کے بارے میں 2018 کی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق ہر سال اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی تقریباً ایک ہزار لڑکیوں کے جبری مذہب تبدیلی کے واقعات سامنے آتے ہیں، جن کی اکثریت 18 سال سے کم ہوتی ہے۔

پاکستان میں مذہبی اقلیتیں مذہب کی تبدیلی کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتی ہیں۔ حکمران جماعت تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی لال چند مالھی اور مسلم لیگ ن سے تحریک انصاف میں شامل ہونے والے رکن اسمبلی رمیش وانکوانی بھی اپنی تقریروں میں اس کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *